سندھ کابینہ نے جمعرات کے روز محکمہ ایکسائز کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کی بنیاد پر گاڑیوں کی رجسٹریشن کا نیا نظام متعارف کرایا جائے گا، جس میں ذاتی نوعیت کے رجسٹریشن مارکس (پرسنلائزڈ رجسٹریشن مارکس- پی آر ایمز) بھی شامل ہوں گے۔
اس نظام کے تحت نمبر پلیٹ گاڑی کے بجائے مالک کے ساتھ منسلک رہے گی اور گاڑی فروخت ہونے کی صورت میں بھی مالک اسے برقرار رکھ سکے گا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نئے نظام کے تحت رجسٹریشن مارکس براہِ راست گاڑی کے مالک کے قومی شناختی کارڈ کے ساتھ منسلک ہوں گے، نہ کہ گاڑی کے چیسیس نمبر سے۔
اس سے مالکان کو یہ سہولت حاصل ہو گی کہ وہ گاڑی فروخت کرنے کے بعد بھی اپنی ذاتی نمبر پلیٹ اپنے پاس رکھ سکیں اور آئندہ کسی نئی گاڑی پر استعمال کر سکیں۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق کابینہ نے اصولی طور پر سئ این آئی سی سے منسلک رجسٹریشن ماڈل اور اس سے متعلق قانونی ترامیم کی منظوری دے دی ہے، تاکہ سندھ کا نظام بین الاقوامی بہترین روایات اور حالیہ اصلاحات (جو اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں کی گئی ہیں) سے ہم آہنگ ہو سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہیکل شناختی نمبرز- (وی آئی این) اب بھی چیسیس نمبر پر مبنی ہوگا، جو کہ گاڑی کی مستقل شناخت رہے گی۔“
ذاتی نوعیت کے رجسٹریشن مارکس (پی آر ایمز) کو مالکان اپنے پاس رکھ سکتے ہیں، دوبارہ استعمال کر سکتے ہیں یا رضاکارانہ طور پر واپس کر سکتے ہیں۔
یہ نظام گاڑیوں کی فوری شناخت اور ٹریکنگ کو ممکن بناتا ہے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔ سی این آئی سی سے منسلک رجسٹریشن نظام ٹیکس دہندگان کے اثاثوں کی موثر نگرانی اور انتظامی سہولت فراہم کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ایک جدید، مالک پر مرکوز رجسٹریشن سسٹم ہو گا، جسے نادرا کے قومی ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ اس سے صوبوں میں رجسٹریشن کا نظام مزید مربوط، قابلِ نگرانی اور معیاری ہو جائے گا۔
اس ماڈل کے تحت نمبر پلیٹس گاڑی کے ساتھ منسلک نہیں ہوں گی بلکہ مالک کے ساتھ رہیں گی۔
گاڑی فروخت کیے جانے پر پلیٹ کو چیسیس سے الگ کر کے دوبارہ کسی نئی گاڑی پر استعمال کیا جا سکے گا۔ اگر مالک پلیٹ رکھنا نہ چاہے، تو وہ نمبر نیلامی یا دوبارہ اجراء کے لیے واپس کر دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) پر مبنی گاڑیوں کے رجسٹریشن نظام کی تیاری شروع کرے اور اس کا پائلٹ ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم کی جائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نظام فوری طور پر نافذ نہیں کیا جائے گا، تاہم وزیراعلیٰ خود اس کے نفاذ کی نگرانی کے لیے فالو اپ اجلاس منعقد کریں گے تاکہ اس کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد مرحلہ وار نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سندھ حکومت نے اجرک ڈیزائن والی نئی نمبر پلیٹس متعارف کرانے کی مہم شروع کر رکھی ہے، جسے 2018 سے جاری سیف سٹی منصوبے سے جوڑا جا رہا ہے۔
سندھ کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمار چاؤلہ کے مطابق نئی نمبر پلیٹس میں سیکورٹی کے جدید فیچرز شامل ہیں جن میں بیک گراؤنڈ میں سیکورٹی تھریڈز، تھری ڈی ہولوگرامز اور بارکوڈز شامل ہیں۔
غیر رجسٹرڈ کسٹمز گاڑیوں کی ضبطی کا عمل جاری
وزیر موصوف نے واضح کیا ہے کہ جب تک حکومت کی جانب سے جاری کردہ سیکورٹی سے لیس نمبر پلیٹس مکمل طور پر نافذ نہیں ہوتیں، سیف سٹی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
اس کے ساتھ ہی سندھ حکومت نے ایسی گاڑیوں کے لیے معیاری طریقۂ کار (ایس او پیز) تجویز کیے ہیں جو محکمہ کسٹمز یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ضبط کی گئی ہوں، خاص طور پر وہ جن میں چیسیس نمبر سے چھیڑ چھاڑ یا کٹ اینڈ ویلڈ ترمیمات کی گئی ہوں۔
سندھ حکومت کی جانب سے تجویز کردہ معیاری طریقۂ کار (ایس او پیز) کے تحت غیر رجسٹرڈ اور ضبط شدہ گاڑیاں صرف وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں کے نام پر رجسٹر ہو سکیں گی۔ ان کے لیے خصوصی غیر منتقل پذیر رجسٹریشن سیریز مقرر کی گئی ہے جی پی وائی /جی پی خبرونہ وفاقی اداروں کے لیے،جی آئی وائی سے جی صوبائی اداروں کے لیے
بیان کے مطابق رجسٹریشن فیس گاڑی کی انوائس ویلیو پر مبنی ہو گی اور رجسٹریشن سے قبل مکمل جانچ پڑتال ضروری ہو گی۔
مزید کہا گیا کہ سندھ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے پاس موجود ضبط شدہ گاڑیاں پاکستان کسٹمز کے حوالے کی جا سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ نئی ایس او اوپیز کے تحت 60 دن کے اندر رجسٹر کرائی جائیں۔
یہ تجویز منظوری کے لیے سندھ کابینہ کو پیش کی گئی ہے۔ کابینہ نے اس تجویز کو قانونی شکل دینے کے لیے وزیرِ ایکسائز کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو سفارشات کو حتمی شکل دے گی۔