وفاقی کابینہ کے کئی سینئر ارکان کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ 9 مئی 2023 کے واقعات کے پس منظر میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا مبینہ گٹھ جوڑ موجود تھا، تاہم فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے تاحال کسی بھی باضابطہ بیان میں اس دعوے کی واضح توثیق نہیں کی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور دیگر حکومتی رہنما مختلف مواقع پر اس مبینہ تعلق کا حوالہ دیتے رہے ہیں، مگر جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا یہ مؤقف کسی سول یا فوجی تحقیقاتی نتائج پر مبنی ہے یا محض قرائن کی بنیاد پر ہے، تو حکومتی ترجمان نے براہ راست جواب دینے کے بجائے آئی ایس پی آر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔
دی نیوز سے گفتگو میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس معاملے پر آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز ’’واضح‘‘ ہے اور وزرا نے اسی تناظر میں بات کی ہے، تاہم جب یہ نشاندہی کی گئی کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود آئی ایس پی آر کے بیان میں اس گٹھ جوڑ کا براہ راست ذکر موجود نہیں، تو وہ کوئی واضح حوالہ پیش نہ کرسکے۔
آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس ریلیز، جس میں جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قید کی سزا سنائے جانے کا اعلان کیا گیا، اس میں بتایا گیا کہ ان کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی 12 اگست 2024 کو شروع ہوئی اور تقریباً 15 ماہ تک جاری رہی۔ بیان کے مطابق ان پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور افراد کو نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت ہوئے۔
پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا کہ کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل طور پر قانونی تقاضوں کے مطابق ہوئی اور ملزم کو اپیل کا حق حاصل ہے۔ تاہم بیان کے آخری حصے میں بعض سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر سیاسی انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے میں مبینہ کردار کا ذکر تو کیا گیا، لیکن نہ عمران خان کا نام لیا گیا، نہ تحریک انصاف کا حوالہ دیا گیا اور نہ ہی 9 مئی کے واقعات سے براہ راست کوئی ربط جوڑا گیا۔
اسی ابہام کے باعث حکومتی سیاسی بیانیے اور فوج کے سرکاری مؤقف کے درمیان واضح فرق سامنے آرہا ہے، جس سے یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ 9 مئی کے پیچھے عمران فیض گٹھ جوڑ کا دعویٰ کسی باقاعدہ تحقیق اور دستاویزی شواہد پر مبنی ہے یا پھر محض سیاسی مفروضہ ہے۔