آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈی بیچ پر ہونے والے دہشتگرد حملے کی تحقیقات میں اہم اور نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ بھارتی نژاد حملہ آور ساجد اکرم اور ان کے بیٹے نوید اکرم نے حملے سے قبل آسٹریلیا میں ہی ٹیکٹیکل ٹریننگ حاصل کی تھی۔
تحقیقات کے دوران آسٹریلوی پولیس نے دونوں ملزمان سے متعلق تفصیلی دستاویزات عدالت میں جمع کرا دی ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ ساجد اکرم اور نوید اکرم نے حملے کی منصوبہ بندی مقامی سطح پر کی، جبکہ حملے سے صرف ایک روز قبل وہ بونڈی بیچ کا دورہ بھی کر چکے تھے تاکہ وہ مقام کا جائزہ لے سکیں۔
دستاویزات میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزمان کے فون سے ملنے والی ویڈیو میں دونوں حملہ آور داعش کے جھنڈے کے سامنے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ اکتوبر میں ریکارڈ کی گئی اسی ویڈیو میں ملزمان نے یہودیوں کے خلاف سخت جذبات اور شدید نفرت کا اظہار بھی کیا تھا، جس سے ان کے ارادوں کی سنگینی مزید واضح ہوتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سڈنی بیچ حملے میں زخمی ہونے والا ملزم نوید اکرم طبی علاج مکمل ہونے کے بعد آج اسپتال سے جیل منتقل کر دیا گیا ہے، تاکہ اس کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔
دوسری جانب آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ انتہاپسندانہ اور نفرت انگیز بیانات کے خلاف سخت تر اور جدید قوانین کی مکمل حمایت کی جائے، تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بونڈی بیچ پر یہودیوں کے مذہبی تہوار میں شریک افراد پر فائرنگ کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حملے کے دوران باپ ساجد اکرم موقع پر ہی مارا گیا تھا، جبکہ اس کا بیٹا نوید اکرم زخمی حالت میں گرفتار ہوا تھا۔