آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر 8 مرحلے کے اہم مقابلے میں انگلینڈ نے کپتان ہیری بروک کی شاندار اور فیصلہ کن سنچری کی بدولت پاکستان کو 2 وکٹوں سے شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا۔ انگلینڈ نے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے آخری اوور میں کامیابی حاصل کی اور ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے میں اپنی جگہ مستحکم کرلی۔
پالی کیلے میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان کے کپتان سلمان آغا نے ٹاس جیتنے کے بعد پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تاکہ بڑا مجموعہ اسکور کرکے انگلینڈ کو دباؤ میں لایا جا سکے۔ تاہم قومی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 164 رنز بنا سکی اور مطلوبہ رفتار برقرار نہ رکھ سکی۔
انگلینڈ نے 165 رنز کا ہدف سنبھل کر کھیلتے ہوئے آخری اوور میں 8 وکٹوں کے نقصان پر مکمل کیا اور اہم کامیابی حاصل کی۔ اس فتح کے ساتھ انگلینڈ کی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں پہنچ گئی اور سپر 8 مرحلے میں سبقت لے گئی۔
ٹیموں میں تبدیلیاں اور اسکواڈ کی تفصیل
انگلینڈ کے خلاف اس میچ کیلئے پاکستان ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی اور فہیم اشرف کی جگہ شاہین آفریدی کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا۔ پاکستان کی ٹیم میں کپتان سلمان آغا، صاحبزادہ فرحان، بابر اعظم، صائم ایوب، فخر زمان، عثمان خان، شاہین آفریدی، سلمان مرزا، عثمان طارق، محمد نواز اور شاداب خان شامل تھے۔
دوسری جانب انگلینڈ نے اپنی ٹیم میں کوئی ردوبدل نہیں کیا اور گزشتہ میچ کی کمبی نیشن برقرار رکھی۔
پاکستان کی بیٹنگ کا خلاصہ
پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 164 رنز اسکور کیے۔ اننگز کے آغاز میں تسلسل برقرار نہ رہ سکا اور ابتدائی وکٹیں گرنے سے ٹیم دباؤ کا شکار رہی۔
صائم ایوب 7 اور سلمان علی آغا 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ بابر اعظم اور فخر زمان نے 25، 25 رنز کی اننگز کھیل کر اسکور میں اضافہ کیا جبکہ عثمان خان 8 اور شاداب خان 23 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔
صاحبزادہ فرحان نے ایک مرتبہ پھر نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے نصف سنچری اسکور کی۔ انہوں نے 45 گیندوں پر 63 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر ٹیم کو ایک قابلِ مقابلہ مجموعہ فراہم کیا۔ محمد نواز بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے جبکہ شاہین آفریدی 2 رنز بنا سکے۔
انگلینڈ کی جانب سے لیام ڈاؤسن نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ جیمی اوورٹن اور جوفرا آرچر نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
انگلینڈ کی جوابی حکمت عملی اور ہدف کا تعاقب
165 رنز کے تعاقب میں انگلینڈ کو ابتدا میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فل سالٹ پہلی ہی گیند پر شاہین آفریدی کا شکار بن گئے اور ٹیم کی پہلی وکٹ صفر پر گری۔ جوز بٹلر بھی 2 رنز بنا کر شاہین کی گیند پر آؤٹ ہوئے جبکہ جیکب بیتھل 8 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔
ٹام بنٹن بھی زیادہ دیر کریز پر قیام نہ کر سکے اور عثمان طارق کی گیند پر 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔ اس موقع پر کپتان ہیری بروک نے ذمہ داری سنبھالی اور نہایت پراعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے 51 گیندوں پر 100 رنز کی شاندار سنچری اسکور کی۔ ول جیکس نے 28 رنز کی اہم شراکت قائم کر کے ٹیم کو ہدف کے قریب پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی نے 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ محمد نواز اور عثمان طارق نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
اس کامیابی کے بعد انگلینڈ سپر 8 مرحلے سے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔
واضح رہے کہ سپر 8 مرحلے میں پاکستان کا نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا میچ بارش کے باعث منسوخ ہوگیا تھا اور دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ دیا گیا تھا۔ پاکستان اپنا آخری میچ سری لنکا کے خلاف 28 فروری کو کھیلے گا۔