آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر فور مرحلے میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی اور ایونٹ سے اخراج کے بعد قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن علیم ڈار کے مستعفی ہونے کی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق علیم ڈار نے سلیکشن معاملات میں مداخلت اور اندرونی اختلافات کے باعث استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔
انتہائی قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے صفِ اوّل کے امپائر علیم ڈار سلیکشن کمیٹی میں کوچ مائیکل ہیسن کی غیر معمولی مداخلت اور کمیٹی کے بااثر رکن عاقب جاوید کی خاموشی پر ناخوش تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ سلیکٹرز پاکستان کے بہترین 20 کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے ہیں، تاہم بعد ازاں کپتان اور کوچ کی جانب سے حتمی 15 رکنی اسکواڈ اور پلیئنگ الیون میں ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں جن کی ذمہ داری پھر سلیکٹرز پر عائد کر دی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران علیم ڈار نے سابق کپتان بابر اعظم اور آل راؤنڈر شاداب خان کی بغیر نمایاں کارکردگی اسکواڈ میں شمولیت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کھلاڑیوں کی شمولیت کارکردگی کی بنیاد پر نہیں ہو رہی تو پھر دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ بھی یکساں معیار اپنایا جائے۔
اسی تناظر میں علیم ڈار نے وکٹ کیپر عثمان خان کی جگہ تجربہ کار وکٹ کیپر محمد رضوان کو نمبر 6 پر کھلانے کی تجویز دی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر بعض کھلاڑی بغیر پرفارمنس ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں تو محمد رضوان کو بھی ایک اور موقع دیا جانا چاہیے۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان کی تجاویز کو خاطر میں نہیں لایا گیا اور کوچ کی رائے کو فوقیت دی گئی۔
موجودہ حالات میں علیم ڈار نے اصولی طور پر مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کے قریبی حلقوں کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کرکٹ نے عزت دی ہے اور وہ کسی بھی صورت محض رسمی کردار ادا نہیں کرنا چاہتے، اس لیے انہوں نے عہدہ چھوڑنے کو بہتر سمجھا۔