برطانیہ نے امیگریشن پالیسی میں سختی کرتے ہوئے افغانستان سمیت چار ممالک کے شہریوں کے لیے طلبہ ویزے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت افغانستان، سوڈان، کیمرون اور میانمار کے طلبہ کے لیے نئی ویزا درخواستیں فی الحال قبول نہیں کی جائیں گی۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے دیگر ممالک کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ویزوں کے غلط استعمال کے واقعات سامنے آئے تو ان پر بھی اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق افغان شہریوں کے ورک ویزوں کو بھی مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت مستقبل میں افغان شہریوں کے لیے برطانیہ میں کام کرنے کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔
برطانوی وزیر داخلہ نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرحدی کنٹرول کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ویزوں کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پالیسی میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کی بڑی وجہ برطانیہ میں پناہ کی درخواستوں میں غیر معمولی اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث حکومت نے امیگریشن نظام کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔