اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف نے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی قیمتوں اور ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے 18 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ فیصلہ موجودہ عالمی صورتحال اور توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کمیٹی کے کنوینر ہوں گے اور وہ اس کی سربراہی کریں گے۔ کمیٹی میں وزیر پیٹرولیم، وزیر توانائی، وزیر مملکت خزانہ، مختلف وزارتوں کے سیکرٹریز، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر، چیئرمین اوگرا اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ جامع مشاورت کے ذریعے سفارشات تیار کی جا سکیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی عالمی کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر مسلسل نظر رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بروقت نمٹا جا سکے۔
کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جائے اور طویل مدت تک جاری رہنے والی کشیدگی یا جنگ کی صورت میں ممکنہ معاشی اثرات کا تخمینہ بھی لگایا جائے۔