امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث چین بھی ایرانی تیل حاصل نہیں کر سکے گا، اور اس حوالے سے امریکا سخت اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکا آبنائے ہرمز میں ایرانی تیل لے جانے والے چینی جہازوں کو روکنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے، تاکہ ایران کی تیل برآمدات کو محدود کیا جا سکے۔
ادھر امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کو آج دوسرا دن ہو گیا ہے، جبکہ امریکی سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ ناکا بندی کے بعد کوئی بھی جہاز ایرانی بندرگاہوں تک نہیں پہنچ سکا۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران کسی بھی بحری جہاز نے ایرانی بندرگاہوں میں داخلہ یا وہاں سے روانگی اختیار نہیں کی، جبکہ 9 بحری جہازوں نے امریکی افواج کی جانب سے واپسی کے احکامات پر عمل کیا۔
دوسری جانب ایک امریکی اخبار کے مطابق پینٹاگون آنے والے دنوں میں ہزاروں اضافی فوجیوں کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران پر معاہدے کے لیے دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، اور اگر جنگ بندی برقرار نہ رہی تو اضافی حملوں یا ممکنہ زمینی کارروائیوں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔