محکمۂ ریلوے نے آج بھی کوئٹہ سے اندرونِ ملک اور چمن کے لیے ٹرین سروس معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر کراچی سے کوئٹہ آنے اور جانے والی بولان میل کو بھی 12 فروری تک معطل رکھا جائے گا۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے اندرونِ ملک اور چمن کے لیے ٹرین سروس کی طویل معطلی کے باعث محکمۂ ریلوے کو اب تک 30 لاکھ روپے سے زائد کا مالی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر نقصان میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب زمینی راستوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے، جہاں پنجاب کو بلوچستان سے ملانے والی ڈی آئی خان لورالائی قومی شاہراہ اور کوئٹہ سے تفتان جانے والی قومی شاہراہ گزشتہ پانچ روز سے بند پڑی ہیں۔ شاہراہوں کی بندش کے باعث مسافروں کے ساتھ ساتھ مال برداری کا نظام بھی متاثر ہو رہا ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
مسافروں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی اور دیگر مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرین اور شاہراہوں کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔