پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن میں پلے آف مرحلے کے لیے ٹیموں کی پوزیشنز مکمل طور پر واضح ہو گئی ہیں، جہاں آخری لیگ میچ کے نتیجے نے ٹاپ ٹیموں کی ترتیب کا فیصلہ کر دیا ہے اور آئندہ مقابلوں کی لائن اپ بھی سامنے آ گئی ہے۔
نیشنل بینک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اہم مقابلے میں تین بار کی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان سلطانز کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن حاصل کر لی، جس سے ٹیم کو کوالیفائر مرحلے میں جگہ مل گئی ہے۔
اگرچہ پلے آف کے لیے کوالیفائی کرنے والی چاروں ٹیموں کا فیصلہ اس سے قبل ہی ہو چکا تھا، جب ایونٹ میں پہلی بار شرکت کرنے والی حیدرآباد کنگز مین نے راولپنڈیز کو 108 رنز کے بڑے فرق سے شکست دی، تاہم اتوار کو کھیلا جانے والا میچ اسلام آباد یونائیٹڈ اور ملتان سلطانز کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ ٹاپ ٹو پوزیشنز کا حتمی فیصلہ اسی مقابلے پر منحصر تھا۔
اس اہم میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جبکہ ملتان سلطانز نے مجموعی ٹیم ورک کی بدولت مقررہ اوورز میں 192 رنز بنائے اور 7 وکٹیں گنوائیں، جس سے مقابلہ سنسنی خیز ہو گیا۔
ہدف کے تعاقب میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 193 رنز کا مطلوبہ ہدف 6 وکٹوں کے نقصان پر 8 گیندیں قبل ہی حاصل کر لیا، جس سے ٹیم نے نہ صرف فتح حاصل کی بلکہ پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن بھی اپنے نام کر لی۔
اس کامیابی کے بعد اسلام آباد یونائیٹڈ کا مقابلہ منگل کو اسی گراؤنڈ میں شیڈول کوالیفائر میں ٹاپ پوزیشن پر موجود پشاور زلمی سے ہوگا، جبکہ دوسری جانب ملتان سلطانز شکست کے بعد تیسرے نمبر پر آ گئی ہے۔
ملتان سلطانز اب بدھ کے روز لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے ایلیمینیٹر ون میں حیدرآباد کنگز مین کا سامنا کرے گی، جہاں دونوں ٹیمیں ایونٹ میں برقرار رہنے کے لیے میدان میں اتریں گی۔
پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان ہونے والے کوالیفائر کی فاتح ٹیم براہ راست فائنل میں رسائی حاصل کرے گی، جبکہ ہارنے والی ٹیم کو ایک اور موقع دیا جائے گا اور وہ ایلیمینیٹر ون کی فاتح ٹیم کے خلاف یکم مئی کو لاہور میں ایلیمینیٹر ٹو میں مدِ مقابل آئے گی۔
ایلیمینیٹر ٹو میں کامیابی حاصل کرنے والی ٹیم پھر 3 مئی کو لاہور میں ہونے والے فائنل میں کوالیفائر کی فاتح ٹیم کے خلاف ٹائٹل کے لیے مقابلہ کرے گی، جس سے ایونٹ کے اختتامی مرحلے کی سنسنی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔























































































