ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سیمی فائنل کی دوڑ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور پہلی بار یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کوئی بھی ایشیائی ٹیم آخری چار میں جگہ نہ بنا سکے۔ گروپ مقابلوں کے نتائج نے صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے جس کے باعث کئی ٹیموں کی پوزیشن غیر یقینی ہو گئی ہے۔
جنوبی افریقا کے ہاتھوں شکست کے بعد بھارت کی سیمی فائنل تک رسائی اب مکمل طور پر محفوظ نہیں رہی۔ بھارت کو اپنے باقی میچز میں زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کا سامنا کرنا ہے۔ دوسری جانب اگر ویسٹ انڈیز جنوبی افریقا کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ بھی سیمی فائنل کی دوڑ میں مضبوط امیدوار بن سکتا ہے، جس سے پوائنٹس ٹیبل مزید دلچسپ صورت اختیار کر جائے گی۔
پاکستان بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ قومی ٹیم کو اپنے آخری میچ میں سری لنکا کو ہر حال میں شکست دینا ہوگی، جبکہ دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی گہری نظر رکھنا ہوگی تاکہ سیمی فائنل میں رسائی کے امکانات برقرار رہ سکیں۔
نیوزی لینڈ کا نیٹ رن ریٹ جمع 3.050 ہے جبکہ پاکستان کا نیٹ رن ریٹ منفی 0.461 ہے، اس لیے پاکستان کے لیے صرف میچ جیتنا کافی نہیں بلکہ رن ریٹ بہتر بنانا بھی ناگزیر ہوگا۔ اگر نیوزی لینڈ اپنے آخری میچ میں انگلینڈ کے خلاف شکست سے دوچار ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے اگلے مرحلے تک رسائی کے امکانات روشن رہیں گے۔
نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد سری لنکا ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکا ہے، جبکہ افغانستان سپر ایٹ مرحلے تک رسائی حاصل نہ کر سکا۔ بنگلہ دیش نے احتجاجاً ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کی، جس سے ایشیائی ٹیموں کی نمائندگی مزید محدود ہو گئی ہے۔