یورپ: یورپی یونین نے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے قرض اور روس کے خلاف پابندیوں کے 20ویں پیکج کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جسے خطے کی حالیہ صورتحال میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان اقدامات کو پہلے ہنگری کی جانب سے روک دیا گیا تھا، تاہم یورپی یونین کے سفیروں نے بدھ کے روز دونوں اقدامات کی منظوری دے دی، جس کے بعد حتمی منظوری کے لیے تحریری طریقہ کار مکمل کیا گیا۔
فیصلہ سازی کے اس عمل میں رکن ممالک کو اعتراضات اٹھانے کے لیے جمعرات کی دوپہر تک مہلت دی گئی تھی، تاہم کسی بھی ملک کی جانب سے مخالفت سامنے نہیں آئی، جس کے بعد قرض اور پابندیوں کا پیکج متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
یہ پیش رفت ہنگری میں حالیہ سیاسی تبدیلی کے بعد ممکن ہوئی، جہاں سابق وزیر اعظم وکٹر اوربان نے ڈرزہبا پائپ لائن کے ذریعے ہنگری اور سلوواکیہ کو روسی تیل کی فراہمی کی معطلی کے باعث اس پیکج کو روکا ہوا تھا، تاہم اب اس رکاوٹ کو دور کر لیا گیا ہے۔
منظور شدہ کثیرالسالہ بجٹ میں ترمیم کے بعد یورپی کمیشن مالیاتی منڈیوں سے قرض حاصل کر کے اس سہ ماہی کے اختتام سے قبل یوکرین کو پہلی قسط جاری کر سکے گا، جبکہ آئندہ 2026 اور 2027 کے دوران دفاع اور بجٹ کے لیے 45 ارب یورو فراہم کرنے کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔
یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا، جبکہ یورپی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالس نے کہا کہ تعطل ختم ہو گیا ہے اور اب دونوں محاذوں پر تیزی سے پیش رفت کی جائے گی۔
یورپی حکام کے مطابق اس اقدام سے روس کی جنگی معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہوگا جبکہ یوکرین کو نمایاں تقویت ملے گی، اور یہ تعاون اس وقت تک جاری رہے گا جب تک جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہو جاتا۔






















































































