امریکا: امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے، جس کا مقصد خطے میں ممکنہ کشیدگی کی صورت میں حکمت عملی کو مؤثر بنانا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اگر جنگ بندی ختم ہو جاتی ہے تو آبنائے ہرمز، جنوبی خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان کے اطراف ایران کی مختلف عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاکہ سمندری راستوں پر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔
رپورٹ میں منصوبوں سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان ممکنہ حملوں میں ایران کی تیز رفتار چھوٹی کشتیوں، بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور دیگر غیر روایتی عسکری وسائل کو ہدف بنایا جا سکتا ہے، جو سمندری سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ ان وسائل کو نشانہ بنانے کا منصوبہ اس لیے ترتیب دیا گیا ہے کیونکہ تہران ماضی میں انہی ذرائع کے ذریعے اہم آبی گزرگاہوں کو بند کرنے یا ان پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا رہا ہے، جسے امریکا کے لیے ایک اسٹریٹجک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔





















































































