لاہور: اچھرہ کے علاقے میں تین بچوں کے بہیمانہ قتل کا معمہ حل ہو گیا، جہاں پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق قاتل سگی ماں ہی نکلی، جس نے چند گھنٹوں میں ہونے والی تحقیقات کے دوران اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جائے وقوعہ کے شواہد اور میاں بیوی کے بیانات میں تضاد نے تہرے قتل کی گتھی سلجھانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے بعد تحقیقات کا رخ واضح ہو گیا۔
ابتدائی تفتیش میں ملزمہ نے اعتراف کیا کہ اس کا شوہر اس کے کردار اور بچوں پر شک کرتے ہوئے اسے طعنے دیتا تھا، جس سے دلبرداشتہ ہو کر اس نے بازار سے چاقو خریدا اور تینوں بچوں کو قتل کر دیا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق خاتون نے واردات کے بعد خود کو بے قصور ظاہر کرنے کے لیے ایک منصوبہ بندی کے تحت ڈرامہ رچایا اور اپنے بچوں کے قتل کا الزام اپنی ساس پر ڈالنے کی کوشش کی تاکہ تفتیش کو گمراہ کیا جا سکے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ بچوں کو قتل کرنے کے بعد خاتون گھر کو تالہ لگا کر باہر چلی گئی اور واپسی پر تالہ اسی حالت میں پایا گیا، تاہم ملزمہ کی غیر معمولی پُراعتمادی نے پولیس کے لیے تفتیش کو آسان بنا دیا، جبکہ جائے وقوعہ سے اہم شواہد بھی حاصل ہوئے۔
پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، اور ایف آئی آر میں خاتون نے بیان دیا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ مزید رہنا نہیں چاہتی تھی، جس کی بنیاد پر اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔
یاد رہے کہ 5 سالہ مومنہ بتول، 4 سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ امہ حبیبہ کی گلا کٹی لاشیں اچھرہ کے ایک گھر سے برآمد ہوئی تھیں، اور ابتدائی شواہد کے مطابق بچوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔





















































































