امریکا: ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکا میں مقیم بھارتی نژاد افراد کی قابلِ ذکر تعداد ملک چھوڑنے پر غور کر رہی ہے، جہاں تقریباً 40 فیصد افراد نے مختلف وجوہات کی بنا پر امریکا سے ہجرت کے بارے میں سوچنے کا اعتراف کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل 1000 افراد میں سے 14 فیصد نے بتایا کہ وہ اکثر جبکہ 26 فیصد نے کہا کہ وہ کبھی کبھار امریکا چھوڑنے کے بارے میں سوچتے ہیں، اس رجحان کی سب سے بڑی وجہ ملکی سیاست سے مایوسی قرار دی گئی جسے 58 فیصد افراد نے اہم عامل بتایا، جبکہ مہنگائی کو 54 فیصد اور ذاتی تحفظ کے خدشات کو 41 فیصد افراد نے بڑی وجوہات کے طور پر بیان کیا۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ سیاسی ماحول اور حکومتی پالیسیوں پر عدم اطمینان نے اس رجحان میں مزید اضافہ کیا ہے، جہاں 71 فیصد افراد نے معیشت، امیگریشن اور عالمی تعلقات کے معاملات پر حکومتی کارکردگی کو ناپسند کیا۔
سماجی سطح پر امتیازی سلوک اور عدم تحفظ کے احساس میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، اور متعدد افراد نے بتایا کہ وہ روزمرہ زندگی میں اپنے رویے تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں تاکہ خود کو محفوظ رکھ سکیں۔
معاشی دباؤ بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے، خاص طور پر بڑے شہروں میں رہائش اور دیگر اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں ایک کمرے کا کرایہ 3000 سے 5000 ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ بچوں کی پرورش کی لاگت 3 لاکھ ڈالر سے زائد بتائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ امیگریشن نظام کی پیچیدگیاں، ویزا میں تاخیر اور مستقل رہائش کے غیر یقینی امکانات بھی اہم عوامل کے طور پر سامنے آئے ہیں، جس کے باعث پیشہ ور افراد میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی نژاد امریکی شہریوں میں سیاسی وابستگیوں میں تبدیلی آ رہی ہے اور اب زیادہ افراد نظریاتی معاملات کے بجائے روزگار، تحفظ اور مستقبل کے استحکام جیسے عملی مسائل کو ترجیح دے رہے ہیں۔






















































































