امریکی خلائی ادارے ناسا سے وابستہ سائنسی جائزوں کے مطابق زمین کا انجام کسی اچانک حادثے جیسے شہابیے کے ٹکراؤ سے نہیں بلکہ بتدریج ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ سیارہ تقریباً ایک ارب سال کے اندر زندگی کے لیے ناقابلِ رہائش بن جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق اصل خطرہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ زمین کی فضا ایسی شکل اختیار کر لے گی جو جانداروں کے لیے موزوں نہیں رہے گی، اور یہ صورتحال سیارے کے مکمل طور پر ختم ہونے سے پہلے ہی پیدا ہو جائے گی، جس سے زندگی کا تسلسل متاثر ہو سکتا ہے۔
سائنسی جریدے کے مطابق اس عمل کی بنیادی وجہ سورج کی قدرتی ارتقائی تبدیلی ہے، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ سورج کی حرارت میں مسلسل اضافہ ہوتا جاتا ہے، جو زمین کے ماحول پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سورج کی بڑھتی ہوئی حرارت کے باعث زمین کا درجۂ حرارت بتدریج بڑھتا جائے گا، جس کے نتیجے میں پانی کے بخارات میں اضافہ ہو گا، اور یہ بخارات مزید گرمی کو قید کر کے درجۂ حرارت میں مزید اضافہ کریں گے۔
اس طرح ایک خطرناک سلسلہ شروع ہو جائے گا جسے رن اوے گرین ہاؤس ایفیکٹ کہا جاتا ہے، جو بالآخر زمین کو اس حد تک گرم کر سکتا ہے کہ یہاں زندگی کا برقرار رہنا ممکن نہ رہے۔























































































