کراچی: ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں شہری مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق کراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 1800 روپے تک میں فروخت ہو رہا ہے، جو ملک کے دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر مہنگا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی میں بیس کلو آٹے کا تھیلا لاہور کے مقابلے میں 420 روپے، پشاور کے مقابلے میں 300 روپے اور اسلام آباد، راولپنڈی و کوئٹہ کے مقابلے میں 200 روپے تک مہنگا ہے۔ سکھر کے شہری آٹا کراچی سے 440 روپے سستا خرید رہے ہیں۔
ادارہ شماریات کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتیں درج ذیل ہیں:
کراچی: 1800 روپے
اسلام آباد و راولپنڈی: 1600 روپے
لاہور: 1380 روپے
فیصل آباد و گوجرانوالہ: 1400 روپے
سیالکوٹ: 1427 روپے
ملتان، سرگودھا، بہاولپور: 1467 روپے
حیدرآباد: 1680 روپے
سکھر: 1360 روپے
پشاور و لاڑکانہ: 1500 روپے
بنوں: 1400 روپے
خضدار و کوئٹہ: 1600 روپے
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں ترسیلات، رسد و طلب اور گودام سے مارکیٹ تک ترسیل کے مسائل کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اکثر دیگر شہروں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ بعض علاقوں میں منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور غیر مؤثر حکومتی نگرانی بھی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ اشیاء خاص طور پر آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافے نے عام آدمی کا بجٹ بری طرح متاثر کیا ہے۔ صارفین کا مطالبہ ہے کہ سندھ حکومت اور ضلعی انتظامیہ فوری طور پر آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرے، تاکہ غریب اور متوسط طبقہ دو وقت کی روٹی سکون سے حاصل کر سکے۔