سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے وکیل میاں علی اشفاق نے اپنے مؤکل کے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف سرکاری گواہ بننے کی تردید کرتے ہوئے قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔
صحافی انصار عباسی کے مطابق سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے وکیل میاں علی اشفاق کا کہنا ہے کہ مجھے یہ بات بطورِ حقیقت معلوم ہے کہ فیض حمید سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف کسی بھی مقدمے میں سرکاری گواہ نہیں بن رہے، اس حوالے سے زیر گردش تمام دعوے قیاس آرائیوں پر مبنی اور بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا اور سیاسی حلقوں میں چلنے والی ایسی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ فیض حمید عمران خان کیخلاف مقدمات میں سرکاری گواہ بننے پر غور کر رہے ہیں، یہ تمام خبریں مکمل طور پر بے بنیاد اور محض قیاس آرائی ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ یہ وضاحت بعض وفاقی وزراء اور اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے آزاد سینیٹر فیصل واوڈا کے متعدد بیانات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیض حمید سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف گواہی دیں گے۔
دوسری طرف فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید نے ملٹری کورٹ کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی، فیض حمید کے وکیل میاں علی اشفاق نے فوجی عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کی تصدیق کی لیکن انہوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم ذرائع نے بتایا کہ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیض حمید کو سزا خلافِ قانون اور غلط بنیاد پر دی گئی، مقدمے کے شفاف ٹرائل کو نظر انداز کیا گیا اس کے علاوہ پراسیکیوشن کی جانب سے بھی مقدمہ ثابت نہیں کیا گیا۔