نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ اگر انہیں برطانوی بادشاہ شاہ چارلس سے علیحدہ بات چیت کا موقع ملتا تو وہ ان سے کوہِ نور ہیرا واپس کرنے کا مطالبہ کرتے، جسے وہ تاریخی تناظر میں ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہیں۔
برونکس میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ وہ شاہ چارلس سے کسی نجی ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے اور ان کی شرکت صرف 11 ستمبر 2001 کی یاد میں منعقدہ تقریب تک محدود ہوگی، جس میں دیگر منتخب عہدیدار بھی شریک ہوں گے۔
تاہم جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر انہیں بادشاہ سے علیحدہ گفتگو کا موقع ملے تو وہ کیا کہیں گے، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ شاہ چارلس کو کوہِ نور ہیرا بھارت کو واپس کرنے کا مشورہ دیں گے۔
کوہِ نور ہیرا، جس کا وزن 105.6 قیراط بتایا جاتا ہے، 1840 کی دہائی میں برطانوی نوآبادیاتی دور کے دوران ایک کم عمر بھارتی شہزادے سے حاصل کیا گیا تھا اور بعد ازاں اسے ملکہ وکٹوریہ کے حوالے کیا گیا، جبکہ اس وقت یہ لندن کے ٹاور میں برطانوی شاہی جواہرات کا حصہ ہے۔
ظہران ممدانی، جو یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور بھارتی نژاد والدین کے بیٹے ہیں، نوآبادیاتی نظام پر تنقیدی مؤقف رکھنے کے باعث جانے جاتے ہیں، جبکہ ان کے والد ایک معروف ماہرِ نوآبادیات اور والدہ فلم ساز ہیں، جن کے کام میں بھی نوآبادیاتی تاریخ کے اثرات نمایاں ہیں۔
بعد ازاں 9/11 کی یادگار تقریب میں ممدانی اور شاہ چارلس کے درمیان مختصر ملاقات ہوئی، جہاں رسمی مصافحہ اور خیرسگالی کے تبادلے تک بات محدود رہی، جبکہ تقریب میں دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ممدانی کے دفتر نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ بادشاہ سے ان کی کوئی نجی ملاقات طے نہیں، تاہم بعض سرکاری دستاویزات میں ان کی شرکت کا ذکر غلطی سے شامل ہو گیا تھا، جبکہ بعد میں وہ اس ایونٹ میں شریک نہیں ہوئے۔























































































