پابندی کے باوجود پاکستان میں دوبارہ قابلِ استعمال سرنجز کی فروخت جاری رہنے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے صحت کے نظام اور انفیکشن کنٹرول کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں جعلی آٹو ڈس ایبل سرنجز بھی موجود ہیں، جنہیں پیکنگ پر آٹو ڈس ایبل ظاہر کیا جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ ایک سے زائد بار استعمال کے قابل ہوتی ہیں، جس کے باعث مریضوں کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پشاور، ملتان اور جیکب آباد سمیت مختلف شہروں سے ایسی سرنجز حاصل کی گئی ہیں، جو بظاہر محفوظ دکھائی دیتی ہیں لیکن عملی طور پر دوبارہ استعمال کی جا رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے گدون امازئی صنعتی زون میں ان قابلِ استعمال سرنجز کی تیاری اور ترسیل کا انکشاف ہوا ہے، جہاں سے یہ مصنوعات مختلف علاقوں میں فراہم کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر تربیت یافتہ افراد معمولی فیس کے عوض انجکشن لگانے کے لیے ایک ہی سرنج کو بار بار استعمال کرتے ہیں، جو خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جعلی حفاظتی سرنجز کا استعمال انفیکشن کنٹرول نظام کو غیر مؤثر بنا رہا ہے، جبکہ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ پابندی کے باوجود ایسی سرنجز کی فروخت کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
























































































