ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں دو ہفتوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں اور توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق برطانوی خام تیل کی قیمت میں 2.90 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت بڑھ کر 109.2 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی 1.97 ڈالر اضافے کے بعد 97.31 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی محدود ترسیل کے باعث عالمی سپلائی پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکا کو جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن پر امریکا کی جانب سے آج غور کیے جانے کا امکان ہے، تاہم تاحال دونوں ممالک کے درمیان کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔























































































