پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کے پہلے ایلیمینیٹر میچ میں حیدرآباد کنگزمین نے ملتان سلطانز کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر ایونٹ سے باہر کر دیا، جبکہ فتح کے بعد کنگزمین ایلیمینیٹر 2 میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے مدمقابل ہوں گے۔
لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا یہ میچ یکطرفہ ثابت ہوا، جہاں آغاز سے لے کر اختتام تک حیدرآباد کنگزمین کا مکمل کنٹرول رہا، انہوں نے پہلے ملتان سلطانز کو 159 رنز تک محدود رکھا اور بعد ازاں ہدف 16ویں اوور میں باآسانی حاصل کر لیا۔
حیدرآباد کنگزمین کی جانب سے عثمان خان نے 64 رنز کی نمایاں اننگز کھیلی جبکہ معاذ صداقت نے بھی 64 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا، مارنس لبوشین 11 رنز بنا سکے جبکہ صائم ایوب 15 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔
ملتان سلطانز کی جانب سے محمد اسماعیل اور اسٹیو اسمتھ نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی، تاہم وہ اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔
اس سے قبل ملتان سلطانز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 159 رنز بنائے، جہاں شان مسعود 69 رنز کے ساتھ نمایاں رہے اور ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ محمد نواز نے 18 رنز بنائے۔
دیگر بیٹرز میں صاحبزادہ فرحان نے 15 اور اسٹیو اسمتھ نے 13 رنز اسکور کیے، تاہم ٹیم بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہی۔
حیدرآباد کنگزمین کی بولنگ شاندار رہی، جہاں محمد علی، عاکف جاوید اور حنین شاہ نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ گلین میکسویل اور صائم ایوب نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
شاندار بیٹنگ کارکردگی پر معاذ صداقت کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، جبکہ اب حیدرآباد کنگزمین ایلیمینیٹر 2 میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف میدان میں اتریں گے اور اس میچ کی فاتح ٹیم فائنل میں پشاور زلمی کا سامنا کرے گی۔
ٹاس کے موقع پر کپتان مارنس لبوشین نے کہا کہ ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور کوشش ہوگی کہ حریف کو کم اسکور تک محدود رکھا جائے، جبکہ ملتان سلطانز کے کپتان ایشٹن ٹرنر نے کہا کہ وکٹ بیٹنگ کے لیے سازگار ہے اور ان کی ٹیم 200 سے زائد رنز بنانے کی کوشش کرے گی۔
ملتان سلطانز کی پلیئنگ الیون میں محمد نواز کو وسیم جونیئر کی جگہ شامل کیا گیا تھا، تاہم ٹیم مطلوبہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
یاد رہے کہ ملتان سلطانز لیگ مرحلے میں مسلسل دوسرے نمبر پر رہی، تاہم آخری دو میچز میں شکست کے بعد تیسرے نمبر پر آ گئی، جبکہ حیدرآباد کنگزمین نے ابتدائی چار میچز ہارنے کے بعد شاندار واپسی کرتے ہوئے مسلسل کامیابیوں کے ساتھ پلے آف مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔























































































