وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ نے گزشتہ دو برسوں میں کی گئی اجتماعی معاشی کاوشوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جبکہ عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ایک غیر معمولی اور چیلنجنگ صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
کابینہ اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر اس وقت جاری ہے، جبکہ 11 اپریل کو دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا تھا، اور یہ بات چیت تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہی، جس میں خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں کی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کشیدہ صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں پر براہِ راست اثرات مرتب کیے ہیں اور مالی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
وزیرِ اعظم کے مطابق جنگ سے قبل پاکستان کا ایک ہفتے کا تیل کا درآمدی بل تقریباً 30 کروڑ ڈالر تھا، جو اب بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔
























































































