وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی پالیسیوں اور صوبائی حکومت کی مسلسل نالائقی کے باعث خیبرپختونخوا اس وقت شدید مسائل سے دوچار ہے اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں نیشنل ایکشن پلان ٹو تشکیل دیا گیا تھا، جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے موجود تھا، اس کے باوجود مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث حالات بگڑتے چلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں صوبائی حکومت مکمل طور پر آن بورڈ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 14 برس سے صوبے میں ایک ہی جماعت کی حکومت قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں، مگر اس کے باوجود دہشت گردی کے واقعات میں کمی نظر نہیں آ رہی۔
وزیر مملکت داخلہ نے واضح کیا کہ دہشت گردوں سے کسی قسم کی ہمدردی نہیں کی جا سکتی اور ان کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے، کیونکہ ملک اور عوام کے تحفظ کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کیوں قائم نہیں کی گئی، اور کیوں صوبائی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے اداروں کو مضبوط بنانے پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی صفر ہے اور وہ محض سیاسی کارڈ کھیلتی رہی، جس کی وجہ سے پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی واضح کیا جائے کہ صوبائی حکومت کو کس نے روکا تھا کہ سی ٹی ڈی نہ بنائے، اور کس نے روکا کہ کاؤنٹر ٹیررازم کے معاملے پر افواج کے ساتھ کھڑی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ جب اجلاسوں میں بلایا جاتا ہے تو صوبائی حکومت کیوں شرکت نہیں کرتی، حالانکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈرائیو میں 22 نکات شامل ہیں۔
وزیر مملکت نے این ایف سی پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک خیبرپختونخوا کو 5867 ارب روپے دیے جا چکے ہیں، جس کے باوجود صوبے میں امن و امان اور گورننس کے مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔