سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں قیمتیں بڑھانا آئل کمپنیوں کو غیر ضروری طور پر زیادہ منافع دینے کے برابر ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئل کمپنیوں کے پاس موجود پیٹرول اور ڈیزل دراصل 28 فروری سے پہلے کم قیمت پر خریدا گیا تھا، اس لیے اس وقت قیمتیں بڑھانے کی کوئی فوری ضرورت نہیں تھی۔ ان کے مطابق موجودہ قیمتوں میں اضافہ کمپنیوں کے منافع میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ اقدام اس فیصلے سے مشابہ ہے جب شوگر ملوں کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے شوگر مل مالکان کو فائدہ ہوا جبکہ اس کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑا، اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے بھی عام شہری متاثر ہوں گے۔