قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، اور اس تاریخی کامیابی پر خوشی کا اظہار نہ کرنا غیر معمولی رویہ ہوگا۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام اکابرین کو ایک جگہ بیٹھ کر مشاورت کرنی چاہیے تاکہ قومی سطح پر بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اس کامیابی پر خوش نہ ہو تو یہ حیران کن بات ہوگی، اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں لیکن ان حالات میں وہ پاکستان کے ساتھ ہیں، اور خیر و تقویٰ کے جذبے کے تحت حکومت کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ تعاون کے لیے تیار ہیں اور موجودہ صورتحال میں حکومت کے ساتھ کھڑے رہیں گے، جبکہ انہوں نے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرے بھی لگائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اختلافات کے باوجود موجودہ حالات میں حکومت کا ساتھ دینا ضروری ہے، اور اسی لیے وہ حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔
انہوں نے عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالمی حالات میں پیچیدگی موجود ہے اور خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے اہمیت رکھتے ہیں، جن کے بارے میں خیال تھا کہ ایران سرینڈر کرے گا، تاہم ایسا نہیں ہوا۔
قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ایک اہم موقع ہے جو ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے بات چیت ہونی چاہیے، وہ اس ملک کے شہری ہیں، اور وہ جیل میں ان سے ملاقات کر کے معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو عوامی سطح پر بڑی مقبولیت حاصل ہے، اور انہیں جیل میں رکھنا درست نہیں، جبکہ خواجہ آصف کو بھی اپنے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے۔























































































