اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے حالیہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ قومی معیشت ایک ممکنہ معاشی سست روی کی جانب بڑھ سکتی ہے، جس کے دوران مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو میں کمی واقع ہو سکتی ہے جبکہ مہنگائی کی سطح بلند رہنے کا امکان ہے۔
کمیٹی کے مطابق یہ صورتحال بیک وقت سست معاشی ترقی اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو جنم دے سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کے لیے معاشی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور غربت و بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
حقیقی معیشت کی کارکردگی کے حوالے سے مانیٹری پالیسی بیان میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال کے پہلے نصف، یعنی جولائی سے دسمبر کے دوران مجموعی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.8 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو معاشی سرگرمیوں کی معتدل رفتار کی نشاندہی کرتی ہے۔






















































































