اسلام آباد: سینیٹ میں پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پورے ملک کے بجلی سے متعلق محکموں جس میں ڈسٹری بیوشن کمپنیز (ڈسکوز)، جنریشن کمپنیز (جینکوز)، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی)، پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (پی آئی ٹی سی) اور واپڈا—کے ملازمین کو بڑے پیمانے پر ماہانہ مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جس کا حجم سینکڑوں ہزار یونٹس میں بنتا ہے۔
ایوانِ بالا کو بتایا گیا کہ مذکورہ محکموں کے ملازمین کو مراعات کے طور پر گریڈ کے مطابق مختلف مقدار میں بجلی بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ مفت یونٹس اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے ملازمین کو ملتے ہیں، جہاں مجموعی طور پر ایک ماہ میں 2 لاکھ 56 ہزار 500 یونٹ سے زائد بجلی بلا قیمت فراہم کی جاتی ہے۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق ملازمین کے لیے مفت بجلی کا شیڈول کچھ یوں ہے:
گریڈ 1 سے 4 تک → 300 یونٹ ماہانہ
گریڈ 5 سے 10 → 600 یونٹ ماہانہ
گریڈ 11 سے 15 → 600 یونٹ ماہانہ
گریڈ 16 → 600 یونٹ ماہانہ
گریڈ 17 → 650 یونٹ ماہانہ
گریڈ 18 → 700 یونٹ ماہانہ
گریڈ 19 → 1000 یونٹ ماہانہ
گریڈ 20 → 1100 یونٹ ماہانہ
گریڈ 21 اور گریڈ 22 → 1300 یونٹ ماہانہ
سینیٹ کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 13 مختلف کمپنیوں کے ملازمین ماہانہ 3 لاکھ 18 ہزار 445 یونٹ سے زیادہ مفت بجلی استعمال کرتے ہیں، جو بجلی کے بوجھ اور مالیاتی دباؤ کے حوالے سے قابلِ غور حجم ہے۔ اس انکشاف کے بعد ملک میں بجلی سبسڈیز اور مراعات کی پالیسی پر نئی بحث کھڑی ہونے کا امکان ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بجلی کے نرخ عام صارفین کے لیے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔