متحدہ عرب امارات کے اوپیک سے باضابطہ انخلاء کے بعد عالمی تیل منڈی میں نمایاں تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ اس پیش رفت سے امریکا کو بھی ممکنہ طور پر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یو اے ای کافی عرصے سے اوپیک کی جانب سے مقرر کردہ پیداوار کی حدوں پر اعتراض کرتا آ رہا تھا، کیونکہ اس نے اپنی تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی، تاہم وہ اپنی مکمل پیداوار کو عالمی مارکیٹ میں پیش کرنے سے قاصر رہا۔
اب اوپیک سے علیحدگی کے بعد یو اے ای کے لیے یہ راستہ ہموار ہو سکتا ہے کہ وہ زیادہ مقدار میں تیل عالمی منڈی میں فراہم کرے، جس سے سپلائی میں اضافہ متوقع ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد یو اے ای یومیہ تقریباً 2 ملین بیرل اضافی تیل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔























































































