مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ پانچویں دن میں داخل ہو گئی ہے جبکہ خلیجی شہروں دبئی اور ابوظبی میں بھی میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس صورتِ حال نے عالمی سطح پر تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
آسٹریا نژاد بلغاریائی جیوپولیٹیکل ماہر اور سیاسی سائنس دان ویلینا چکارووا نے ایک بھارتی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت انتہائی غیر یقینی اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ایران کی جانب سے اہم بحری راستہ آبنائے ہرمز بند کیے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ماضی میں ایران نے کبھی اس راستے کو مکمل طور پر بند نہیں کیا کیونکہ چین اس کا بڑا خریدار ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صرف چینی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
ویلینا چکارووا کا کہنا ہے کہ اگر امریکی بحریہ تجارتی جہازوں کو اس راستے سے محفوظ گزرنے کے لیے سیکیورٹی فراہم کرتی ہے تو ایران کی جانب سے جہازوں پر حملوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث کئی عالمی انشورنس کمپنیاں بھی خطے میں سرگرمیوں سے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ جنگ آئندہ چار سے پانچ ہفتوں تک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت، بڑی کمپنیوں اور عام شہریوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق ایران اس وقت خود کو چاروں طرف سے گھرا ہوا محسوس کر رہا ہے اور وہ آخری لمحے تک لڑنے کی پوزیشن میں ہے۔
چکارووا نے کہا کہ ایران اپنے اتحادی گروہوں اور نیٹ ورکس کو بھی متحرک کر سکتا ہے جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی نظام حکومت ایک پیچیدہ اور مضبوط ڈھانچہ رکھتا ہے، اس لیے صرف فضائی حملوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے مقاصد بھی مکمل طور پر ایک جیسے نہیں ہیں۔ امریکا ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، جوہری تنصیبات اور بحری طاقت کو کمزور کرنا چاہتا ہے جبکہ اسرائیل اس سے آگے بڑھ کر ایران میں حکومتی تبدیلی کا خواہاں ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اگر ممالک اور کمپنیاں صرف انتظار کی پالیسی اپنائیں گی تو انہیں بڑے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ دنیا پہلے ہی یوکرین، غزہ اور تائیوان سمیت کئی عالمی کشیدگیوں سے گزر رہی ہے۔