ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سونے سے کم از کم تین گھنٹے پہلے کھانا بند کر دینا انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے بلڈ پریشر اور خون میں شوگر کی سطح بہتر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور دل اور میٹابولزم کے نظام پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ماہرین نے انجام دی ہے اور اسے معروف طبی جریدے آرٹیریوسکلروسس، تھرومبوسس اینڈ ویسکیولر بائیولوجی میں شائع کیا گیا ہے، جس میں کھانے کے وقت اور جسمانی صحت کے درمیان تعلق کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
تحقیق کیا کہتی ہے؟
ماہرین کے مطابق انسانی جسم ایک قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے تحت کام کرتا ہے جسے سرکیڈین ردھم کہا جاتا ہے۔ یہ نظام نیند کے دورانیے، ہارمونز کی سطح، دل کی کارکردگی اور میٹابولزم سمیت کئی اہم جسمانی افعال کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ رات گئے کھانا کھانے سے اس حیاتیاتی نظام میں خلل پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ اس وقت جسم کو آرام اور بحالی کے مرحلے میں ہونا چاہیے، لیکن کھانا کھانے کی صورت میں جسم ہاضمے کے عمل میں مصروف رہتا ہے جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر اور شوگر لیول متاثر ہو سکتے ہیں۔
مطالعے کے دوران رضاکاروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ سونے سے کم از کم تین گھنٹے پہلے کھانا بند کر دیں، رات کے وقت روشنی کو مدھم رکھیں اور فاسٹنگ کا دورانیہ تقریباً 13 سے 16 گھنٹے تک بڑھا دیں تاکہ جسم کو قدرتی طور پر آرام کا موقع مل سکے۔
تحقیق کیسے کی گئی؟
اس تحقیق میں 36 سے 75 سال عمر کے 39 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو موٹاپے کا شکار تھے اور جن میں دل کی بیماریوں اور ذیابیطس کا خطرہ پہلے سے موجود تھا۔
شرکاء کو دو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور تقریباً ساڑھے سات ہفتوں تک ان کی روزمرہ عادات اور صحت کے مختلف پہلوؤں کا مشاہدہ کیا گیا تاکہ کھانے اور نیند کے اوقات کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر ڈینیلا گریمالڈی کے مطابق اگر کھانے اور سونے کے اوقات کو جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے مطابق ترتیب دیا جائے تو دل کی صحت، نیند کے معیار اور میٹابولزم کے درمیان ہم آہنگی بہتر ہو سکتی ہے۔
شریک مصنفہ ڈاکٹر فِلِس زی نے بتایا کہ صحت کے فوائد صرف اس بات پر منحصر نہیں ہوتے کہ ہم کیا کھاتے ہیں بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہوتے ہیں کہ ہم کب کھاتے ہیں۔
اہم نتائج
تحقیق کے دوران سامنے آنے والے نتائج کے مطابق رضاکاروں میں رات کے وقت بلڈ پریشر میں تقریباً 3.5 فیصد کمی اور دل کی دھڑکن میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ انسولین کی کارکردگی میں واضح بہتری بھی دیکھی گئی۔
اس کے علاوہ رضاکاروں میں گلوکوز کو برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر ہوئی اور رات کے وقت اسٹریس ہارمون کورٹیسول کی سطح میں بھی کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ مثبت تبدیلیاں دل پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں اور طویل مدت میں ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے امراض کے خطرات کو کم کر سکتی ہیں۔
ماہرین کی تجویز
ماہرین نے صحت کو بہتر رکھنے کے لیے مشورہ دیا ہے کہ رات کا کھانا سونے سے کم از کم تین گھنٹے پہلے مکمل کر لیا جائے، ہلکی اور متوازن غذا کا انتخاب کیا جائے اور رات کے وقت تیز روشنی اور اسکرین کے استعمال کو کم رکھا جائے۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر رات کے وقت بھوک محسوس ہو تو بھاری غذا کھانے کے بجائے ہربل چائے یا نیم گرم پانی کا استعمال کیا جا سکتا ہے جو صحت کے لیے زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔