وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق میں فتنہ خوارج اور افغان طالبان کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات جاری کر دی ہیں اور کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں عطا تارڑ نے بتایا کہ آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 663 فتنہ خوارج اور افغان طالبان ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ 887 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کی مجموعی طور پر 249 چیک پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ مزید 44 چیک پوسٹیں قبضے میں لینے کے بعد مسمار کر دی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے بھی تباہ کیے جا چکے ہیں جس سے ان کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے تقریباً 70 مقامات کو فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق 12 اور 13 مارچ کی درمیانی شب پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کابل، پکتیا اور قندھار میں دہشت گردوں کی لاجسٹک بیسز اور تربیتی کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تاکہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو کمزور کیا جا سکے۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آپریشن غضب للحق کے دوران کسی بھی شہری آبادی یا سول انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان عبوری حکومت کے بعض عہدیداروں اور میڈیا کی جانب سے اس حوالے سے غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔