ملک میں آر ایل این جی کے ذخائر میں تیزی سے کمی کے باعث گیس بحران نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو صارفین سمیت مختلف شعبوں کو گیس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق گھریلو صارفین کو گیس کی سپلائی میں بھی نمایاں کمی کر دی گئی ہے، جس کے باعث عوام کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے اور مختلف علاقوں میں شکایات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس کی مجموعی سپلائی کم ہو کر صرف 700 ملین کیوبک فٹ یومیہ رہ گئی ہے، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی سے قبل یہ مقدار تقریباً 1200 ملین کیوبک فٹ یومیہ تھی، جس سے موجودہ کمی کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
سوئی ناردرن کے ذرائع کے مطابق گیس کا شارٹ فال 600 ملین کیوبک فٹ سے بھی تجاوز کر چکا ہے، جو توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے اور اس کے اثرات مختلف سطحوں پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب سوئی گیس حکام کا مؤقف ہے کہ کھانے کے تینوں اوقات میں صارفین کو گیس کی مکمل فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، تاہم زمینی حقائق اور عوامی شکایات اس دعوے سے مختلف تصویر پیش کر رہے ہیں۔






















































































