پنجاب اسمبلی نے کم عمر بچوں کی شادی کی ممانعت سے متعلق ترمیمی مسودہ قانون کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے، جس کے تحت کم عمری کی شادی کے خلاف قانونی اقدامات کو مزید سخت اور مؤثر بنا دیا گیا ہے۔
اسمبلی اجلاس کے دوران اس اہم بل کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد بچوں خصوصاً بچیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور معاشرے میں اس حساس مسئلے کے خلاف مؤثر قانون سازی کرنا ہے۔
چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے مطابق بچیوں کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی نوعیت کی قانون سازی عمل میں لائی گئی ہے، جو مستقبل میں مثبت نتائج دے سکتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 کے تحت کم عمری کی شادی میں ملوث افراد کے لیے سخت سزاؤں کی منظوری دی گئی ہے تاکہ اس عمل کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
بل کے مطابق 18 سال سے زائد عمر کے افراد اگر کم عمر بچوں سے نکاح کریں گے تو انہیں سزا کا سامنا کرنا ہوگا، جبکہ ایسے معاملات میں معاونت کرنے والے والدین یا سرپرستوں کے لیے بھی 2 سے 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔























































































