اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے مجوزہ تبادلوں کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پیپلز پارٹی کے دباؤ کے باعث دو ججوں کا تبادلہ فی الحال روک دیا گیا ہے، جس سے اس عمل میں عارضی تعطل پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کے ممکنہ تبادلوں سے متعلق جاری عمل کو منگل کے روز اس وقت جزوی دھچکا لگا جب سیاسی مداخلت کے نتیجے میں دو ججوں کے نام فہرست سے نکال دیے گئے، جس سے صورتحال میں غیر یقینی پیدا ہو گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق حکومتی سطح پر ہونے والی پیش رفت میں پیپلز پارٹی کے کردار کے باعث جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس ارباب ایم طاہر کے نام کم از کم وقتی طور پر تبادلے کی فہرست سے خارج کر دیے گئے ہیں، جس سے اس معاملے کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی واپسی کے بعد اس معاملے کو دوبارہ زیر غور لائے جانے کا امکان ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں ان دونوں ججوں کے تبادلوں کے حوالے سے دوبارہ فیصلہ کیا جائے۔























































































