امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی حالیہ تجاویز پر وہ مطمئن نہیں ہیں، اور ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کی پیشکش قابلِ قبول نہیں سمجھی جا سکتی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنی تجویز میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت کو جنگ کے خاتمے اور خلیجی سمندری راستوں سے متعلق تنازعات کے حل تک مؤخر کیا جائے، تاہم واشنگٹن کا مؤقف یہ ہے کہ جوہری معاملہ مذاکرات کے آغاز ہی میں شامل ہونا چاہیے اور اسے بعد کے مرحلے تک نہیں ٹالا جا سکتا۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکا اپنی سرخ لکیروں کے معاملے میں مکمل طور پر واضح ہے اور میڈیا کے ذریعے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہی ہے تاکہ کسی ممکنہ حل تک پہنچا جا سکے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi خطے کے مختلف ممالک کے دورے کر رہے ہیں، جن میں پاکستان، عمان اور روس شامل ہیں، تاکہ سفارتی سطح پر کوئی قابلِ عمل حل نکالا جا سکے، تاہم دونوں ممالک کے مؤقف میں اب بھی واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔
ادھر جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی رسد متاثر ہو رہی ہے، خصوصاً Strait of Hormuz میں بحری آمدورفت شدید حد تک محدود ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی ترسیل پر نمایاں اثر پڑا ہے۔
شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق جہاں پہلے روزانہ 125 سے 140 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، اب یہ تعداد انتہائی کم ہو چکی ہے اور عالمی منڈی کے لیے تیل کی سپلائی تقریباً معطل ہو گئی ہے۔
امریکی ناکہ بندی کے باعث ایرانی تیل سے بھرے متعدد ٹینکرز کو واپس لوٹنا پڑا، جبکہ ایران نے ان اقدامات کو کھلے عام سمندری ڈکیتی قرار دیا ہے اور اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جاری تعطل کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ امریکی صدر Donald Trump کو اندرونِ ملک بھی جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔























































































