سندھ ہائی کورٹ نے ماتحت عدالت کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے غیر قانونی اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دے دیا ہے۔
جسٹس محمد حسن اکبر نے مالی تنازع کے ایک کیس میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنا نہ صرف غیر قانونی عمل ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی بھی قانون میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے، جبکہ سپریم کورٹ بھی اس بات کو واضح کر چکی ہے کہ شناختی کارڈ بلاک کرنے سے متعلق کوئی قانونی شق موجود نہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ ضابطہ فوجداری قانون کے تحت بھی شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں بنتی، لہٰذا اس نوعیت کے احکامات کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔























































































