کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس کی معطلی کا آج دوسرا دن ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق موبائل انٹرنیٹ بند کرنے کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے، تاہم اس سلسلے میں تاحال کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ بلوچستان حکومت کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے باعث صوبے بھر میں انٹرنیٹ سروس اکتیس اگست تک بند رکھی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان میں پندرہ اگست تک دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی، جس کے تحت موٹرسائیکل پر ڈبل سواری، اسلحے کی نمائش، پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، اور عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
بدھ کی شام جب کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں اچانک انٹرنیٹ سروس معطل ہوئی تو شہریوں کو نہ صرف ذاتی بلکہ کاروباری معاملات میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا، بینکاری خدمات اور آن لائن کام سے وابستہ افراد شدید متاثر ہوئے۔
یہ بھی یاد رہے کہ ماضی میں اگست کے مہینے میں کالعدم بلوچ مسلح تنظیمیں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہیں، اسی تناظر میں رواں سال بھی ممکنہ حملوں کے خطرے کے پیش نظر یہ اقدام کیا گیا ہے۔