اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے معاشی اثرات کے باعث دنیا بھر میں 3 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر غربت میں کمی کے اہداف کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس صورتحال کو ماہرین نے “ترقی کا الٹ سفر” قرار دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں حاصل ہونے والی معاشی پیش رفت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ اس کی بڑی وجوہات میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، خوراک کی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عالمی معاشی ترقی میں سست روی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جاری جنگ کے باعث توانائی اور خوراک کی عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جس کے اثرات خاص طور پر ترقی پذیر ممالک پر زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں، اور ان ممالک میں غربت میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ بحران طویل عرصے تک جاری رہا تو عالمی سطح پر معاشی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ کمزور معیشتوں میں لاکھوں افراد ایک بار پھر غربت کی جانب دھکیلے جا سکتے ہیں، جس سے سماجی اور اقتصادی چیلنجز مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔