وفاقی حکومت نے پاکستان کی بندرگاہوں پر جہازوں کو ایندھن کی فراہمی کے نظام کو جدید، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کیلئے میرین بنکرنگ کے نئے ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس مقصد کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کسٹمز رولز 2001 میں مجوزہ ترامیم کا مسودہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت “کسٹمز میرین بنکرنگ رولز 2026” کے نام سے ایک نیا باب شامل کیا جائے گا۔
دستاویزات کے مطابق نئے قواعد کا اطلاق کراچی بندرگاہ، پورٹ قاسم، گوادر بندرگاہ اور ان کی بیرونی لنگرگاہوں پر ہوگا، جبکہ ضرورت پڑنے پر دیگر بندرگاہوں کو بھی اس نظام میں شامل کیا جا سکے گا۔
مجوزہ قواعد کے تحت تمام بنکرنگ سرگرمیاں پاکستان سنگل ونڈو کے تحت قائم پورٹ کمیونٹی سسٹم کے ذریعے مکمل طور پر الیکٹرانک انداز میں انجام دی جائیں گی۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد بندرگاہی سرگرمیوں میں شفافیت، مؤثر نگرانی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق صرف وہی کمپنیاں میرین بنکرنگ کی خدمات فراہم کر سکیں گی جو مرکنٹائل میرین ڈیپارٹمنٹ سے لائسنس یافتہ ہوں اور کسٹمز کے ساتھ مجاز بنکر آپریٹر کے طور پر رجسٹرڈ ہوں۔
ایندھن بردار کشتیوں کی رجسٹریشن، تکنیکی اسناد، ماحولیاتی تحفظ کے دستاویزات، حفاظتی آلات اور عملے کی تربیت سے متعلق معلومات کسٹمز نظام میں جمع کرانا لازمی ہوگا۔
قواعد کے مطابق کسی بھی جہاز کو ایندھن فراہم کرنے سے قبل اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہوگا جبکہ ایندھن کی فراہمی کے بعد تفصیلی بنکر ڈلیوری نوٹ جاری کیا جائے گا جس میں ایندھن کی مقدار، معیار اور دیگر تکنیکی معلومات درج ہوں گی۔
نئے نظام میں ایندھن کے معیار کی تصدیق کیلئے لازمی نمونہ سازی کا طریقہ کار بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت حاصل کیے گئے نمونے کم از کم ایک سال تک محفوظ رکھنا ہوں گے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مجوزہ ترامیم پر متعلقہ فریقین سے پانچ روز کے اندر اعتراضات اور تجاویز طلب کر لی ہیں، جن کا جائزہ لینے کے بعد حتمی قواعد جاری کیے جائیں گے۔






















































































