آئی ایم ایف نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ خودمختار ویلتھ فنڈ کو مکمل طور پر فعال بنانے اور متعلقہ قانون میں پارلیمانی منظوری کے مطابق ترامیم کے لیے 6 سخت شرائط نافذ کی جائیں، تاکہ مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق ان شرائط کے تحت خودمختار ویلتھ فنڈ کو کسی بھی صورت میں قرض لینے یا ادھار حاصل کرنے، ضمانت یا رہن فراہم کرنے، سرکاری یا نجی اداروں کو قرض دینے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں شرکت کرنے، کسی بھی نوعیت کے مالیاتی اثاثے یا آلات حاصل کرنے، یا مرکزی بینک اور دیگر سرکاری اداروں سے مالی معاونت لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اسی طرح فنڈ کو مالیاتی اثاثے حاصل کرنے اور مالیاتی اداروں یا سرکاری ملکیتی اداروں سے کسی قسم کی سرمایہ کاری یا معاونت لینے سے بھی روکنے کی شرط شامل کی گئی ہے، تاکہ اس کی مالیاتی سرگرمیوں کو محدود اور شفاف رکھا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق ان مجوزہ ترامیم کو 2026-27 کے بجٹ کی منظوری کے بعد اسٹرکچرل بینچ مارک کے طور پر قانون کا حصہ بنایا جائے گا، جس کے ذریعے اس فنڈ کی فعالیت کو مخصوص حدود میں رکھا جائے گا۔
حکومت نے اس سلسلے میں سرکاری ملکیتی اداروں سے متعلق قوانین میں 6 ترامیم پارلیمنٹ کو منظوری کے لیے بھیج دی ہیں، تاکہ انہیں اسٹیٹ آپریٹڈ انٹرپرائزز ایکٹ کی شقوں کے مطابق مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جا سکے۔
























































































