ایران نے آبنائے ہرمز سے بھارتی جہازوں کی گزرگاہ کے حوالے سے ایک شرط عائد کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث خطے میں تجارتی نقل و حرکت سے متعلق صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے بھارت کے سامنے یہ مطالبہ رکھا ہے کہ اگر بھارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت درکار ہے تو پہلے ایران کے تین جہاز واپس کیے جائیں، تاہم بھارت نے اس مطالبے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ جنگ کے آغاز سے قبل بھارت نے ایران کے تیل سے بھرے تین بحری جہاز اس وقت اپنی تحویل میں لے لیے تھے جب امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کے معاملات جاری تھے، جس کے بعد یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان حساسیت اختیار کر گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران نے اپنے تین بحری جہازوں کی واپسی کے ساتھ ساتھ بھارت سے ادویات اور طبی آلات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت تقریباً 22 بھارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز میں رکے ہوئے ہیں، جو موجودہ کشیدگی کے باعث اپنی منزل تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔