برطانوی حکومت نے بریگزٹ معاہدہ ختم ہونے کے بعد ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ایسے یورپی یونین کے شہریوں کے رہائشی حقوق ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو مسلسل برطانیہ میں مستقل طور پر مقیم نہیں رہے یا طویل عرصے سے ملک سے باہر رہ رہے ہیں، اور اس اقدام کو امیگریشن پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یہ حالیہ اقدام 2020 کے بریگزٹ انخلاء معاہدے کے تحت ایک قانونی عمل کا حصہ ہے، جس کے ذریعے حکومت ان افراد کی حیثیت کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے جو برطانیہ میں مستقل رہائش کی شرائط پوری نہیں کر رہے۔
سفری ڈیٹا کو جزوی طور پر غیر حاضریوں کے تعین کے لیے استعمال کرنے کے فیصلے نے بھی کئی خدشات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ ایچ ایم آر سی کی ایک ناکامی کے باعث ہوم آفس کے سرحدی ڈیٹا میں غلطیوں کی وجہ سے تقریباً 20 ہزار سے زائد والدین چائلڈ بینیفٹس سے محروم ہو گئے تھے، جس پر پہلے ہی تنقید سامنے آ چکی ہے۔
برطانوی ہوم آفس کے مطابق یہ کریک ڈاؤن خاص طور پر ان افراد کے لیے کیا جا رہا ہے جنہوں نے بریگزٹ سے قبل برطانیہ میں رہنے کے لیے پری سیٹلڈ اسٹیٹس حاصل کیا تھا، اور یہ اسٹیٹس ان افراد کو دیا گیا تھا جو پانچ سال سے کم عرصے سے برطانیہ میں مقیم تھے۔
اب ایسے افراد حکام کی نگرانی میں آ سکتے ہیں جو پانچ سال سے زائد عرصہ قبل برطانیہ چھوڑ چکے ہیں، اور ان کے کیسز میں طویل غیر حاضری کی وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب حفاظتی اقدامات اور جائزہ لیا جائے گا۔
ہوم آفس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بریگزٹ کے بعد امیگریشن اسٹیٹس کے لیے درخواست دینے والے 6.2 ملین افراد میں سے تقریباً 1.4 ملین افراد اب بھی پری سیٹلڈ اسٹیٹس کے تحت موجود ہیں، جو اس پالیسی کے ممکنہ اثرات کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔