برصغیر کی معروف اور لیجنڈری پلے بیک سنگر آشا بھوسلے 92 سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال کر گئیں، جس کے بعد موسیقی کی دنیا میں گہرے دکھ اور افسوس کی فضا پائی جا رہی ہے، اور ان کے چاہنے والے اس خبر پر سوگوار نظر آ رہے ہیں۔
آشا بھوسلے کے بیٹے آنند بھوسلے نے اپنی والدہ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی آخری رسومات کل شام 4 بجے ممبئی میں ادا کی جائیں گی، جبکہ خاندان کی جانب سے اس موقع پر سادگی اختیار کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
آشا بھوسلے کو ہفتے کے روز ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں انہیں شدید تھکن اور سینے کے انفیکشن کے باعث زیر علاج رکھا گیا، تاہم دوران علاج ان کی طبیعت میں بہتری نہ آ سکی اور وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
ان کی پوتی زنائی بھوسلے نے سوشل میڈیا پر پہلے ہی آگاہ کیا تھا کہ ان کی دادی کی طبیعت ناساز ہے، اور خاندان نے مداحوں سے درخواست کی تھی کہ اس مشکل وقت میں ان کی پرائیویسی کا احترام کیا جائے۔
8 ستمبر 1933 کو مہاراشٹر میں پیدا ہونے والی آشا بھوسلے کا تعلق موسیقی کے نامور منگیشکر خاندان سے تھا، اور وہ لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن تھیں، جنہوں نے مل کر برصغیر کی موسیقی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
آشا بھوسلے نے اپنے طویل اور کامیاب فنی سفر کے دوران 12 ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کیے، جبکہ ان کا نام دنیا میں سب سے زیادہ ریکارڈنگز کرنے والی گلوکارہ کے طور پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کیا گیا، جو ان کی غیر معمولی خدمات کا اعتراف ہے۔
یہ ورسٹائل گلوکارہ غزل، پاپ اور کلاسیکل سمیت موسیقی کی مختلف اصناف میں اپنی آواز کا جادو جگاتی رہیں، اور ہر انداز میں اپنی منفرد پہچان قائم کی، جس کی بدولت انہیں عالمی سطح پر بھی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔
1990 کی دہائی میں اے آر رحمان کے ساتھ ان کے گانوں نے ایک بار پھر ان کی آواز کی ہمہ گیری کو ثابت کیا، اور یہ ظاہر کیا کہ ان کا فن ہر نسل کے سامعین کے لیے یکساں طور پر متاثر کن اور دلکش رہا۔