وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ ریلیف پر مبنی ہے جس میں تنخواہ دار طبقے، برآمد کنندگان، صنعت اور کاروباری شعبے کو نمایاں سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔
آن لائن بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ ماضی کے بجٹوں سے مختلف ہے اور اس کا بنیادی مقصد عوام اور کاروباری طبقے پر مالی بوجھ کم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات سے ملک کو نکالنے کے بعد اب مختلف شعبوں کو ریلیف دینے کیلئے مالی گنجائش پیدا کی ہے۔
تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس میں نرمی
عطا اللہ تارڑ کے مطابق ماہانہ 50 ہزار روپے تک آمدن رکھنے والے افراد پر کوئی انکم ٹیکس عائد نہیں ہوگا جبکہ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن پر صرف ایک فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیگر آمدنی والے طبقات کیلئے بھی ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی گئی ہے تاکہ تنخواہ دار طبقے پر مالی دباؤ کم ہو۔
برآمدی شعبے کیلئے مراعات
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ برآمد کنندگان کیلئے پیشگی ٹیکس اور سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ برآمدی مالی معاونت اسکیم کے تحت شرح سود صرف 4 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
ان کے مطابق ان اقدامات سے ملکی برآمدات میں اضافہ اور پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقت بڑھانے میں مدد ملے گی۔
جائیداد اور تعمیراتی شعبے کیلئے اقدامات
انہوں نے کہا کہ 5 اور 10 مرلے کے گھروں اور پلاٹوں کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق اپنا گھر پروگرام کیلئے 90 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 11 ارب روپے جاری بھی کیے جا چکے ہیں۔
زرعی شعبے اور نوجوانوں کیلئے سہولتیں
وزیر اطلاعات نے کہا کہ زرعی مشینری کی درآمد پر تمام ڈیوٹیاں ختم کر دی گئی ہیں جبکہ زرعی گریجویٹس کیلئے خصوصی پروگرام جاری رکھے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت لاکھوں نوجوانوں کو کاروباری اور زرعی قرضے فراہم کیے جائیں گے جبکہ فنی تربیت اور کھیلوں کے پروگراموں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔
کاروباری طبقے کیلئے نئی اسکیم
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ لاکھوں دکاندار ٹیکس نیٹ سے باہر تھے، اس لیے تاجر تنظیموں کی مشاورت سے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرائی گئی ہے۔
اس اسکیم کے تحت دکاندار کم از کم 25 ہزار روپے سالانہ ٹیکس ادا کریں گے اور انہیں ٹیکس رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔
معاشی استحکام کی جانب پیش رفت
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے محصولات کے نظام میں اصلاحات، ڈیجیٹل نظام کے فروغ اور شفافیت کے ذریعے معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اداروں کی مشترکہ کوششوں سے ملک معاشی بہتری کی جانب بڑھ رہا ہے۔





















































































