کراچی کی سڑکوں کی ابتر حالت شہریوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے، جہاں انفراسٹرکچر کی خرابی اور گہرے گڑھوں کے باعث رواں سال 2026 کے ابتدائی دو ماہ میں ہی انسانی جانوں کے ضیاع میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور شہر کی متعدد شاہراہیں حادثات کے حوالے سے انتہائی خطرناک قرار دی جا رہی ہیں۔
ایک مقامی فلاحی ادارے اور دیگر معتبر ذرائع کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری اور فروری 2026 کے دوران کراچی کی مختلف خستہ حال سڑکوں پر پیش آنے والے حادثات کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ یہ صورتحال شہریوں کے لیے مسلسل خطرے کی علامت بنی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 73 مرد، 12 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں، جبکہ ان حادثات کے دوران 1,048 سے زائد افراد شدید زخمی بھی ہوئے، جن میں سے کئی افراد عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو چکے ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ صفورہ گوٹھ سے نیپا چورنگی، جیل روڈ، حسن اسکوائر اور نیشنل ہائی وے جیسے اہم مقامات کو حادثات کے اعتبار سے ریڈ زون قرار دیا گیا ہے، جہاں سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ زیادہ تر حادثات رات کے وقت پیش آتے ہیں، جس کی بڑی وجہ سڑکوں پر مناسب روشنی کا فقدان اور اچانک سامنے آنے والے گہرے گڑھے ہیں، جبکہ جناح اسپتال کے طبی ماہرین کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر ہڈیوں کے ٹوٹنے اور سر کی چوٹوں کے درجنوں کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب شہریوں اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے، اور حکام کی خاموشی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی کاموں میں غیر معمولی تاخیر اور ناقص میٹریل کا استعمال انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔