وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں مزید 63 ارب روپے کی کٹوتی کر دی ہے، جس کے بعد پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کا مجموعی حجم کم ہو کر 837 ارب روپے رہ گیا ہے، اور اس فیصلے کو مالی دباؤ کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ کٹوتی وزارت خزانہ کی جانب سے کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل بھی مارچ کے مہینے میں ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی کمی کی گئی تھی، جس کے بعد مجموعی طور پر اب تک 163 ارب روپے کی کٹوتی ہو چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مارچ میں کی جانے والی کٹوتی پٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کی گئی تھی، جبکہ رواں مالی سال کے آغاز میں اس پروگرام کا مجموعی حجم ایک ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کٹوتی مختلف اہم شعبوں میں کی گئی ہے، جن میں پانی، تعلیم، صحت، ریلوے، ہاؤسنگ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، جس سے ان شعبوں میں جاری منصوبوں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔