چین کے وزیر اعظم لی کیانگ نے ملک کی خودمختاری، سلامتی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک نئے قانون پر دستخط کر دیے ہیں، جو فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے، اور اس اقدام کو عالمی سطح پر چین کی پالیسی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ قانون 20 شقوں پر مشتمل ہے، جس کے تحت حکومت کو ایسے تمام اقدامات کے خلاف ردعمل دینے کا اختیار حاصل ہوگا جو کسی بھی ملک کی جانب سے چین کے معاشی مفادات، شہریوں یا اداروں کے خلاف کیے جائیں۔
اس قانون کے تحت چین کے خلاف اقدامات میں شریک غیر ملکی افراد اور اداروں کی فہرست بھی تیار کی جائے گی، تاکہ ان کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جا سکیں، جبکہ حکام کو ان سرگرمیوں کے جواب میں مناسب اور سخت کارروائی کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس قانون کا مقصد بیرونی دباؤ کا مؤثر جواب دینا اور قومی مفادات کا ہر صورت تحفظ یقینی بنانا ہے، جبکہ اس کے نفاذ سے چین کی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں مزید مضبوطی متوقع ہے۔