امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ امن معاہدے کے اشاروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی کمی دیکھی گئی، جبکہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی بحال ہونے کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے سودے 1.89 ڈالر یا 1.7 فیصد کمی کے بعد 107.98 ڈالر فی بیرل تک آ گئے، جبکہ گزشتہ سیشن میں اس کی قیمت میں 4 فیصد کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے سودے بھی مزید 1.83 ڈالر یا 1.8 فیصد کمی کے بعد 100.44 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئے، جبکہ اس سے قبل بھی اس میں تقریباً 3.9 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔
صدر ٹرمپ نے منگل کے روز غیر متوقع طور پر اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو فوجی تحفظ فراہم کرنے کے آپریشن کو عارضی طور پر روک دیا جائے گا، کیونکہ ایران کے ساتھ ایک جامع معاہدے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم انہوں نے معاہدے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اس اعلان پر ایران کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔
تیل کے شعبے کی ماہر این فام کے مطابق خلیج میں پھنسے بحری جہازوں کی روانگی کی امیدیں بڑھ رہی ہیں، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی بتدریج بحال ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ دونوں کی قیمتیں اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امن معاہدے کے امکانات تاحال غیر یقینی ہیں، اور اگر معاہدہ ہو بھی جاتا ہے تو سپلائی مکمل بحال ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے گی، جبکہ عالمی منڈی میں سپلائی کی کمی نے قیمتوں کو بلند سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ باہمی اتفاق کے تحت ناکہ بندی برقرار رہے گی، تاہم “پروجیکٹ فریڈم” کو مختصر مدت کے لیے معطل کیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ امن معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔
یہ اعلان امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی اس بریفنگ کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں آبنائے ہرمز میں پھنسے ٹینکرز کو فوجی تحفظ فراہم کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا تھا۔
امریکی فوج کے مطابق پیر کے روز خلیج سے دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکالنے کے دوران ایران کی متعدد چھوٹی کشتیوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کیا گیا تھا۔






















































































