کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس میں اے سی سسٹم کی خرابی کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ شدید گرمی کے دوران سفر کرنے والے افراد نے ریلوے انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مسافروں کے مطابق ٹرین کے اے سی کوچز میں کولنگ کا نظام مکمل طور پر متاثر ہے، جس کے باعث سفر انتہائی دشوار ہو چکا ہے، جبکہ ٹرین میں موجود عملہ بھی اس خرابی کو دور کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
متاثرہ مسافروں کا کہنا ہے کہ اے سی اسٹینڈرڈ کا کرایہ 7600 روپے، بزنس کلاس کا 10 ہزار روپے جبکہ لاہور تک اے سی سلیپر کا کرایہ 14 ہزار روپے وصول کیا جا رہا ہے، تاہم اس کے باوجود بنیادی سہولت یعنی اے سی دستیاب نہیں، جسے انہوں نے محکمہ ریلوے کی سنگین غفلت قرار دیا ہے۔
مسافروں نے سوال اٹھایا کہ اگر اے سی سسٹم درست حالت میں نہیں تھا تو ٹرین کو روانہ کرنے سے قبل اس کی مکمل جانچ کیوں نہیں کی گئی، جبکہ دوران سفر بھی عملہ مسئلے کے حل میں مؤثر کردار ادا کرتا نظر نہیں آیا۔
انہوں نے وفاقی وزیر ریلوے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔






















































































